دہلی کے كنسٹيٹيوشن کلب میں منعقد اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ پریس کانفرنس میں راہل گاندھی نے کہا کہ کسانوں کے پاس کھاد اور بیج خریدنے کے لئے پیسہ نہیں ہے. راہل نے کہا کہ پی ایم کا دعوی تھا کہ 30 دسمبر تک سب ٹھیک ہو جائے گا. لیکن آخری تاریخ نزدیک ہے، اور حالات اب بھی خراب ہیں. انہوں نے کہا کہ اب پی ایم کو جواب دینا ہے. انہوں نے پی ایم مودی سے اپنے اوپر لگے الزامات کی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا اورسوئس حکومت کی لسٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم نریندر مودی کا یہ بھی دعوی تھا کہ نوٹ بندي سے دہشت گردی پر حملہ کیا جائے گا لیکن کچھ دہشت گردوں کو مارنے کا دعویٰ جو کیا گیا اُن کی جیبوں سے 2،000 روپے کے نئے نوٹ برآمد ہوئے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ سہارا کے دستاویزات میں وزیر اعظم نریندر مودی کو کروڑوں روپے دیے جانے کا ذکر کئی باردرج ہے، لیکن پی ایم مودی کرپشن کی بات کرتے ہیں مگر اپنے اوپر لگے الزامات پر کچھ نہیں بول رہے ہیں۔
ترنمول کانگریس لیڈر اور مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے وزیر اعظم مودی پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ آزادی ملنے کے بعد نوٹ بندي سب سے بڑا اسکینڈل ہے اور اس نے ملک کو 20 سال پیچھے دھکیل دیا ہے. اتنا ہی نہیں ممتا نے یہ بھی کہا کہ اگر 50 دن بعد بھی حالات نہیں سدھرتے تو کیا وزیراعظم مودی استعفی دیں گے؟
اس پریس کانفرنس میں ترنمول سربراہ اور مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام پارٹیاں اس معاملے پر کامن مینیمم پروگرام بنا کر ایک ساتھ آئیں گی. ان کا کہنا تھا کہ نوٹ بندي ایک بڑا اسکینڈل ہے. انہوں نے کہا کہ نوٹ بندي سے کسان، مزدور، غریب - تمام پریشان ہیں.
ممتا نے سوال کیا کہ اگر 50 دن بعد صورت حال میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تو کیا وزیراعظم مودی استعفی دیں گے؟ ممتا بنرجی نے کہا کہ نوٹ بندي سے ہمارا ملک 20 سال پیچھے چلا گیا ہے، سارے ترقیاتی کام بند ہو گئے ہیں. انہوں نے کہا کہ اچھے دن کے نام پر لوگوں کا پیسہ حکومت نے لے لیا ہے. انہوں نے پی ایم مودی سے پوچھا کہ کیا یہی ہیں اچھے دن ؟ انہوں نے کہا کہ پی ایم مودی پچاس دن کا جووعدہ کیا تھا، اُن کے حساب سے 50 دن میں صرف تین دن باقی رہ گئے ہیں ، کیا اس کے بعد سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ؟
ممتا بنرجی نے کہا کہ آج بینک 6،000 روپے بھی نہیں دے پا رہے ہیں. حکومت نے ہمارے سارے حق چھین لئے ہیں. انہوں نے کہا کہ نوٹ بندي کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے. کیش لیس کی بات ہو رہی ہے، لیکن امریکہ جیسا ملک بھی مکمل طور کیش لیس نہیں ہے.
مغربی بنگال کی وزیر اعلی نے کہا کہ جمہوریت میں وعدہ، وعدہ ہوتا ہے جو پورا ہوتا نظر نہیں آتا. ممتا نے کہا کہ نوٹ بندي کے بعد اب تک 107 لوگوں کی جان چلی گئی ہے، اور حالات 'سوپر ایمرجنسی' جیسے ہیں.